Logo video2dn
  • Сохранить видео с ютуба
  • Категории
    • Музыка
    • Кино и Анимация
    • Автомобили
    • Животные
    • Спорт
    • Путешествия
    • Игры
    • Люди и Блоги
    • Юмор
    • Развлечения
    • Новости и Политика
    • Howto и Стиль
    • Diy своими руками
    • Образование
    • Наука и Технологии
    • Некоммерческие Организации
  • О сайте

Скачать или смотреть Wrong decision | About Mubarik Sani Case | chief justice Qazi faze Issa

  • Dr Aadil Raza Saifi
  • 2024-07-31
  • 182
Wrong decision | About Mubarik Sani Case | chief justice Qazi faze Issa
Supreme courtQazi faze iseaWrong decisionGovernment planPmlnSyed zaheer ul hassan shah sahibShah gSaadRizviSaifiAadil Raza SaifiNewsChannelYouTubePakistanGazaMubarikSaniCase
  • ok logo

Скачать Wrong decision | About Mubarik Sani Case | chief justice Qazi faze Issa бесплатно в качестве 4к (2к / 1080p)

У нас вы можете скачать бесплатно Wrong decision | About Mubarik Sani Case | chief justice Qazi faze Issa или посмотреть видео с ютуба в максимальном доступном качестве.

Для скачивания выберите вариант из формы ниже:

  • Информация по загрузке:

Cкачать музыку Wrong decision | About Mubarik Sani Case | chief justice Qazi faze Issa бесплатно в формате MP3:

Если иконки загрузки не отобразились, ПОЖАЛУЙСТА, НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если у вас возникли трудности с загрузкой, пожалуйста, свяжитесь с нами по контактам, указанным в нижней части страницы.
Спасибо за использование сервиса video2dn.com

Описание к видео Wrong decision | About Mubarik Sani Case | chief justice Qazi faze Issa

مبارک ثانی قادیانی کیس اور اس کا پس منظر ۔

*24جولائی کو جو محفوظ فیصلہ سنایا گیا ہے۔اس کی ابتداء کہاں سے ہوئی پہلے پس منظرملاحظہ فرمائیں ۔
7مارچ 2019ء چناب نگر میں قادیانی نظارت تعلیم کے اہتمام قادیانی تعلیمی اداروں کی مشترکہ تقریب منعقد ہوئی، جس میں لڑکوں اور لڑکیوں میں مرزا محمود کی تفسیر صغیر تقسیم کی گئی۔ (یاد رہے کہ یہ وہ تحریف شدہ تفسیر صغیر ہے جس میں صحابہ ومحدثین اور چودہ سو سالہ امت مسلمہ کے مفسرین کی تفسیر کے خلاف تحریف کی گئی ہے۔ بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور ان کے معجزات کا انکار کیا گیا ہے۔ )
6دسمبر 2022 کو تحریف شدہ تفسیر صغیر کی تقسیم پر تھانہ چناب نگر میں اس تفسیر کے تقسیم کرنے پر مبارک ثانی پر 295b اور295c اور قرآن ایکٹ 2011 ءکےتحت مقدمہ درج کرایا گیا۔(مارچ 2019 تا نومبر 2022 تک کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا)
ایک سال بعد مبارک احمد ثانی قادیانی کو گرفتار کیا گیا۔اس کی گرفتاری پر قادیانیوں نے چناب نگر تھانہ پر حملہ بھی کیا ۔ جس پر کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
کیس سیشن کورٹ میں گیا ملزم پر فرد جرم عائد ہوئی، ایڈیشنل جج راجہ اجمل نے ستمبر2023 میں ضمانت خارج کردی۔
ضمانت کا کیس ہائی کورٹ لاہور میں گیا نومبر 2023 میں جسٹس فاروق حیدر نے ضمانت خارج کردی۔
ضمانت کا کیس سپریم کورٹ میں گیا، قادیانیوں نے ضمانت کی درخواست دی تو 6فروری 2024 کو ملزم مبارک احمد قادیانی کو ضمانت پر سپریم کورٹ نے بری کردیا۔
ملک بھر میں صدائے احتجاج بلند ہوئی ، جس پر حکومت پنجاب ، اور مذہبی جماعتوں نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دائر کی۔ جس پر سپریم کورٹ نے 26 فروری 2024 کو ملک کے اہم اداروں سے رائے طلب
سماعت تین رکنی سپریم کورٹ کے بینچ نے کی۔ جس کے سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان جناب قاضی فائز عیسیٰ ، اور جناب جسٹس عرفان سعادت خان اور جناب جسٹس نعیم اختر افغان۔
اسلامی نظریاتی کونسل اور دوسرے اداروں نے اپنی علیحدہ آراء جمع کرائیں۔
ان تمام اداروں کا اس بات پر اتفاق تھا کہ چیف جسٹس کا قادیانی مبارک احمد ثانی کیس کی ضمانت کا فیصلہ درست نہیں، تصحیح طلب ہے۔ گورنمنٹ پنجاب کے ایڈوکیٹ جنرل، مدعی کے وکلاء اور دیگر تیس کے لگ بھگ ادارے شخصیات جو نظر ثانی میں فریق تھے ۔ سب تحریری طور پر متفق تھے کہ عدالتی فیصلہ درست نہیں۔
جامعہ بھیرہ کے مفتی محمد شیر خان نے عدالت میں اپنی بات کہی جو یہ ہے:
عوامی مقامات پر قادیانیوں کو تبلیغ وترویج کی اجازت نہیں، ایسا کرنا قانوناً جرم ہے، تومذہب کی تبلیغ وترویج کے بارے عدالتی فیصلہ واپس لینے پر سب مکتبہ فکر کے ادارے اور علماء متفق ہیں۔
قادیانی پرائیویٹ طور پر اپنی چار دیواری یا عبادت گاہ یا گھر میں بھی اسلامی اصطلاحات یا اسلامی اعمال نہیں کرسکتے۔ جس سے ان کا مسلمان ہونا سمجھاجائے۔ یہ آئین کے خلاف ہے۔ وہ گھر پر اپنے کفر کو اسلام کے نام پر پیش کریں۔ جب پتہ چلے تو قانون ان کے اس خلاف قانون اور خلاف اسلام راستہ کو روکے۔
کیونکہ:::
مسجد ضرار منافقین کی پرائیویٹ جگہ اور پراپرٹی تھی علیحدہ چار دیواری تھی وہ اپنے کفر ونفاق کو اسلام کے نام پر وہاں علیحدہ چار دیواری میں استعمال کرتے تھے۔ مگر قرآن مجید نے ان کی اس ساری جدوجہد کو بیخ وبن سے ادھیڑ دیا ۔
مسیلمہ کذاب کا گروہ اپنے حلقہ میں پرائیویٹ طور پر اپنے ہاں اذان، نماز، ذبیحہ، کلمہ، قرآن کا استعمال کرتا تھا۔ مگر سیدنا صدیق اکبر نے ان کی سازشوں کا قلع قمع کردیا ۔
کیا کوئی پرائیویٹ طور پر خفیہ اپنا رزق کمانے کے نام پر ہیروئن رکھ سکتاہے؟؟؟؟
کیا کوئی پرائیویٹ خفیہ اپنے گھر میں بدکاری کا اڈہ چلا سکتا ہےـ؟؟؟
کیا کوئی خفیہ اپنے گھر میں خلاف قانون اسلحہ اسٹور کرسکتا ہے؟؟؟
نہیں نہیں!
تو پھر خلاف قانون اسلامی اصطلاحات واسلامی شعائر اپنے گھر میں بھی قادیانی استعمال نہیں کرسکتے۔(جیسے قربانی، اور تفسیر صغیر کا تقسیم کرنا)
جس پر عدالت عالیہ نے فیصلہ محفوظ کرلیا جو اب 24جولائی کو سنایا گیا۔

اب جو فیصلہ آیا ہے جس کو تمام مذہبی وسیاسی جماعتون اور وکلاء تنظیموں، طلباء تنظیموں نے مسترد کردیا ہے اور احتجاج کی کال دی ہے۔
فیصلے میں کچھ بھی نیا نہیں۔ نظر ثانی کیس میں جن بنیادی باتوں پر اعتراضات دائر کئے گئے تھے انہیں مخاطب بنانے اور ان پر بات کرنے کی بجائے ایک مبہم فیصلہ جاری کردیا گیا ہے۔ مثلاً
فیصلہ کی شق نمبر 6 میں ہے۔ کہ مبارک ثانی پرپنجاب قرآن بورڈکی دفعہ 7 لاگونہیں ہوتی۔بلکہ اس کااطلاق ممنوعہ کتاب کے مصنف۔ناشر۔طابع۔یاریکارڈتیارکرنے والے پرلاگوہوتی ہے۔مبارک ثانی ملزم۔نہ۔مصنف نہ طابع وناشر ہے۔
تو سوال یہ ہے کہ تفسیرصغیرکتب کی طابع اورناشرتوجماعت مرزائیہ ہے اس پرکوئی ایکشن لیاگیا؟اس پر اس قانون کا اطلاق ہوگا یا نہیں، اگر ہوگا تو کب؟؟؟؟
شق نمبر7۔۔اس شق میں کہاگیا کہ 298-سی لاگونہیں ہوتاکیونکہ تفسیر صغیرمرزائی ادارہ میں تقسیم کی گئ ہے۔ گویاچیف جسٹس صاحب نے لائنسس دے دیا کہ مرزائی اپنے اداروں میں تحریف شدہ تراجم۔اورکفریہ عبارتوں پرمبنی لٹریچر مرزائی تقسیم کرسکتے ہیں۔اس پر 298سی لاگونہیں ہوگا۔حالانکہ یہ قانون بنا ہی انہیں کی ان حرکتوں کی وجہ تھا۔
شق نمبر41میں طاہرنقاش بنام ریاست کاذکرکیا گیا کہ مرزائیوں کااپنی۔عبادت گاہ میں کلمہ۔طیبہ لکھنا۔توہین۔رسالت نہیںہے۔اس پر 295:سی لاگونہیں ہوگا۔جج صاحبان کومعلوم ہی نہیں کہ قادیانی کلمہ میں محمدسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کونہیں بلکہ مرزاملعون کولیتے ہیں۔( قادیانی رسالہ کلمۃ الفصل کو دیکھا جاسکتا ہے )
شق نمبر42: اس شق میں کہا گیا""عوامی سطح پرخودکومسلمانوں کے طورپرپیش نہیں کریں گے۔تاہم اپنے گھروں۔عبادت گاہوں ۔اپنے نجی مخصوص اداروں کے اندرانھیں قانون کے تحت مقررکردہ ""معقول قیود"" کے اندر""گھرکی خلوت "" کاحق حاصل ہے۔یعنی اپنی حدود میں اسلامی شعائراستعمال کرسکتے ہیں۔ *(گویا جب گھر میں اسلامی شعائر استعمال کریں گے تو وہ مسلمان ہوں گے

Комментарии

Информация по комментариям в разработке

Похожие видео

  • О нас
  • Контакты
  • Отказ от ответственности - Disclaimer
  • Условия использования сайта - TOS
  • Политика конфиденциальности

video2dn Copyright © 2023 - 2025

Контакты для правообладателей [email protected]