Logo video2dn
  • Сохранить видео с ютуба
  • Категории
    • Музыка
    • Кино и Анимация
    • Автомобили
    • Животные
    • Спорт
    • Путешествия
    • Игры
    • Люди и Блоги
    • Юмор
    • Развлечения
    • Новости и Политика
    • Howto и Стиль
    • Diy своими руками
    • Образование
    • Наука и Технологии
    • Некоммерческие Организации
  • О сайте

Скачать или смотреть “Strict Procedure or Acquittal: Lessons from a Narcotics Case”

  • Learning the Law Academy
  • 2026-01-25
  • 25
“Strict Procedure or Acquittal: Lessons from a Narcotics Case”
the national law universitythe national judicial systemThe national judicial system andthe national judicial review and informationthe national judicial branch ofthe national judicial system for beginnerssupereme court Islamabad Pakistan judgementsupereme court Karachisupereme judicial council
  • ok logo

Скачать “Strict Procedure or Acquittal: Lessons from a Narcotics Case” бесплатно в качестве 4к (2к / 1080p)

У нас вы можете скачать бесплатно “Strict Procedure or Acquittal: Lessons from a Narcotics Case” или посмотреть видео с ютуба в максимальном доступном качестве.

Для скачивания выберите вариант из формы ниже:

  • Информация по загрузке:

Cкачать музыку “Strict Procedure or Acquittal: Lessons from a Narcotics Case” бесплатно в формате MP3:

Если иконки загрузки не отобразились, ПОЖАЛУЙСТА, НАЖМИТЕ ЗДЕСЬ или обновите страницу
Если у вас возникли трудности с загрузкой, пожалуйста, свяжитесь с нами по контактам, указанным в нижней части страницы.
Спасибо за использование сервиса video2dn.com

Описание к видео “Strict Procedure or Acquittal: Lessons from a Narcotics Case”

استغاثہ کی جانب سے متعلقہ روزنامچہ (Daily Dairy) کا وہ اندراج پیش نہ کیا جانا، جس سے پولیس پارٹی کی مبینہ جائے وقوعہ کی طرف روانگی ثابت ہوتی، اس امر کی ایک معقول اور جائز قانونی مفروضہ کو جنم دیتا ہے کہ درحقیقت پولیس پارٹی موقع پر گئی ہی نہیں اور یہ کہ تمام کارروائی ممکنہ طور پر تھانے کی حدود کے اندر ہی انجام دی گئی۔ مزید برآں، نہ تو ضبطی افسر (Seizing Officer) اور نہ ہی استغاثہ کے کسی اور گواہ نے کوئی ایسی دستاویزی شہادت ریکارڈ پر لائی جس سے مبینہ طور پر جرم میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل کی ملکیت ثابت ہو سکے، اور نہ ہی کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش کیا گیا جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ احاطہ، جہاں سے بعد ازاں مبینہ برآمدگی دکھائی گئی، درخواست گزار/ملزم کی ملکیت تھا یا اس کے مکمل اور خصوصی قبضہ و کنٹرول میں تھا۔ اس کے علاوہ، استغاثہ کے کسی بھی گواہ نے اس امر کی کوئی وضاحت، بلکہ کوئی قابلِ قبول وضاحت بھی پیش نہیں کی کہ وہ کارروائیاں، جن کا قانوناً لازم تھا کہ برآمدگی کی جگہ پر ہی انعقاد کیا جاتا، اس ابتدائی مقام پر کیوں انجام نہیں دی گئیں جہاں سے مبینہ طور پر درخواست گزار کو گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ سنگین اور نمایاں کمی استغاثہ کے مقدمہ کو اس کی ابتداء ہی سے نہایت مشکوک بنا دیتی ہے۔

یہ فوجداری قانون کا ایک مسلمہ اور مستحکم اصول ہے کہ جہاں قانون کسی مخصوص طریقۂ کار کا تعین کرے، وہاں اس کی سختی سے پابندی لازم ہوتی ہے، اور اس سے کسی بھی قسم کا انحراف بعد ازاں کی گئی کارروائی کو قانونی طور پر مشتبہ بنا دیتا ہے۔ یہ اصول بالخصوص اُن مقدمات میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے جو خصوصی قوانین، مثلاً کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز ایکٹ، 1997ء کے تحت قائم کیے جائیں، کیونکہ ایسے قوانین نہ صرف سخت طریقۂ کار اور حفاظتی ضمانتیں فراہم کرتے ہیں بلکہ سنگین سزاؤں کا بھی تقاضا کرتے ہیں۔ چنانچہ ایسے معاملات میں استغاثہ پر عائد بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے اور ملزم کے خلاف جرم کو شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے کے لیے ناقابلِ تردید، قابلِ اعتماد اور قانونی طور پر قابلِ قبول شہادت پیش کرنا لازمی ہو جاتا ہے۔

مزید یہ کہ مبینہ طور پر برآمد شدہ کچلا ہوا پوست/افیون بطور شہادت پیش کیے جانے سے قبل، اسے مورخہ 19.06.2008ء کو درخواست گزار/ ملزم کو کسی قسم کا نوٹس جاری کیے بغیر تلف کر دیا گیا۔ یہ کوتاہی اصولِ قدرتی انصاف کے بنیادی قاعدے، یعنی audi alteram partem (کوئی شخص سنے بغیر مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا) کی صریح اور سنگین خلاف ورزی ہے۔ کیس پراپرٹی کی تلفی سے قبل نوٹس کا اجرا محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ قانون کی ایک لازمی اور بنیادی شرط ہے۔

اس طرح درخواست گزار/ ملزم اپنے اس قیمتی اور بنیادی حق سے محروم کر دیا گیا کہ وہ دورانِ سماعت کیس پراپرٹی کا معائنہ اور جانچ کر سکتا، اور اس ضمن میں وزنِ منشیات، پارسلوں کی تعداد و نوعیت، ان پر لگائی گئی مہریں، قانونی قبضے کا سوال، یا پوری مبینہ برآمدہ منشیات کو کیمیائی تجزیہ کے لیے بھجوانے کی درخواست جیسے اعتراضات اٹھا سکتا۔ یہ تمام اعتراضات اس صورت میں باآسانی اٹھائے جا سکتے تھے اگر کیس پراپرٹی معزز ٹرائل کورٹ کے روبرو پیش کی جاتی، یا اس کی تلفی سے قبل نوٹس جاری کیا جاتا۔
یہ بھی قانون کا ایک طے شدہ اصول ہے کہ جہاں عدالت، ازخود یا کسی اور ذریعے سے، کیس پراپرٹی کی تلفی کو ضروری سمجھے، وہاں ایسے کسی بھی حکم کے اجرا سے قبل لازم ہے کہ ملزم اور استغاثہ دونوں کو نوٹس جاری کیا جائے۔ فریقین کے مؤقف اور ممکنہ اعتراضات سننے کے بعد ہی کوئی منصفانہ اور قانونی حکمِ تلفی صادر کیا جا سکتا ہے۔ کسی فریق کے خلاف کوئی منفی حکم صادر کرنے سے قبل اسے سننے کی شرط اصولِ قدرتی انصاف کا ایک بنیادی تقاضا ہے، جو اس وقت تک ہر قانون کا حصہ سمجھا جائے گا جب تک کہ قانون ساز صراحتاً اس کے برعکس نہ کہے۔

فوجداری اپیل نمبر 159-ایل آف 2021
محمد عبداللہ طارق بنام ریاست وغیرہ
بتاریخ: 02-10-2025

Комментарии

Информация по комментариям в разработке

Похожие видео

  • О нас
  • Контакты
  • Отказ от ответственности - Disclaimer
  • Условия использования сайта - TOS
  • Политика конфиденциальности

video2dn Copyright © 2023 - 2025

Контакты для правообладателей [email protected]